Showing posts with label Islami. Show all posts
Showing posts with label Islami. Show all posts

Friday, June 7, 2019

اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں


حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔۔
میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔
اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔
اب وہ سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔۔۔
دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔۔
آج خلاف معمول میرا لہجہ کافی نرم تھا۔۔
باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس نے قتل جیسا جرم کیا ہے۔۔ کیونکہ مجھے اس کی معصومیت سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ قتل جیسا جرم کر سکتا ہے۔۔۔
"ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ تو پھر میں ایسا گھناونا جرم کیسے کرسکتا ہوں؟"
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
"تو پھر؟"
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"جب اللہ اس دنیا میں کسی کو اختیارات دیتا ہے نا تو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیارات اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔۔۔ وہ ان سب کو اپنا کمال اور حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمارے علاقے کے ایک بااثر انسان نے قتل کردیا اور اتفاق سے میں وہاں سے چند قدم ہی دور تھا۔۔۔ اس نے الزام مجھ پر لگا دیا۔۔ جھوٹے گواہ بھی تیار کرلیے گئے اور میں یہاں آگیا"
مجھے دکھ سا ہوا۔۔۔
"تو تمہارے گھر والون نے کچھ نہیں کیا؟"
"گھر والوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن وہی بات اس معاشرے میں لوگ بھی ڈر کے مارے اسی کا ساتھ دیتے ہیں جو طاقتور ہو"
وہ پھر سے مسکرایا تھا ۔۔
مجھے اس کے سکون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تمہیں موت کی سزا سنا دی جائے؟"
"ان شاءاللہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے اس کے آگے اپنی عرضی رکھ دی ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔۔"
اس نے پر یقین لہجے میں جواب دیا۔۔
میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
"میں اپنے اللہ کی بات کررہا ہوں۔۔۔ اسے میری بے گناہی کا علم ہے اور وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا"
اس کے ہر ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی۔
"تمہیں یقین ہے کہ دعا سے کام ہوجائے گا۔۔۔؟ اگر نہ ہوا تو۔۔۔؟؟" 
میں نے پوچھا۔۔
"جب اس سے مانگا جاتا ہے نا تو پھر شک میں نہیں پڑتے کہ وہ قبول نہیں کرے گا۔۔۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑ کر انتظار کرتے ہیں"
اس کے لہجے میں یقین ہی یقین تھا۔۔۔ میں بس اس کے چہرے کو تکتا رہ گیا کہ اس سے پہلے اللہ پر اتنا یقین شاید ہی کسی میں دیکھا ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن مزید گزر گئے۔۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے آئے تھے۔۔۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ ماں کا رو رو کر برا حال تھا لیکن اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔ وہ مسلسل سمجھاتا رہا کہ میں نے اللہ کے سامنے عرضی رکھ دی ہے اسے پتا ہے میں بے گناہ ہوں دیکھ لیجئے گا وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔
میں نے اللہ پر اتنا یقین اس سے پہلے صرف پڑھا ہی تھا لیکن کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔میرے دل میں اب اس کے لیے عقیدت کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ شاید اللہ کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے جو پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے۔۔۔
اور پھر جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ہی عجیب واقعہ ہوا۔۔۔
جس شخص نے خود قتل کرکے الزام اس پر لگایا تھا وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ گاڑی میں کہیں جارہا تھا کہ اسے ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بچہ تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔۔ کافی گھنٹوں بعد ہوش میں آنے کے بعد اسے بیوی اور بچے کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی حالت اور بگڑ گئی۔۔۔ 
اسی جان کنی کے عالم میں اسے کچھ یاد آیا۔۔۔ اس نے چیخ کر قریب موجود ڈاکٹر کو اس کی ویڈیو بنانے کا کہا۔۔۔ بار بار اصرار پر ڈاکٹر نے نرس کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا تو اس نے ویڈیو میں بڑی مشکل سے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اس نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔۔۔
اس نے ڈاکٹر سے وعدہ لیا کہ وہ یہ ویڈیو ضرور پولیس سٹیشن لے کر جائے گا۔۔۔۔۔ شاید بیوی بچے کے مرنے کے بعد اور اپنی حالت کا علم ہوجانے کے بعد وہ اس گناہ کو ساتھ لے کر مرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ادھر ویڈیو پولیس سٹیشن پہنچی ادھر وہ آدمی مرگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عدالت میں اس کی پیشی تھی۔۔ عدالت کے سامنے اس کی بے گناہی کا ناقابل تردید ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود تھا۔۔ لہذا اسے باعزت بری کر دیا گیا۔۔۔
میں کمرہ عدالت میں کھڑا گم سم سا سوچ رہا تھا کہ اللہ ان بندوں کی جو صحیح معنوں میں اس پر ایمان لاتے ہیں ان کی ایسے بھی مدد کرسکتا ہے۔۔۔
اس کی ہتھکڑیاں کھول دی گئی تھیں ماں روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔۔
آج اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ شاید اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑا تھا اور اس طرح سے اس کی مدد کی تھی جس کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔۔
اور مجھے یاد ہے مجھ سے ملنے کے بعد جب وہ جانے لگا تھا تو میں نے اسے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسی بات بتا کر جائے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں۔۔
تو اس کے الفاظ تھے۔۔
*"اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں۔۔۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے اسی سے مانگیں اور پھر یقین بھی رکھیں کہ وہ قبول کرے گا۔۔۔ وہ محض کسی سوچ یا تصور کا نام تو ہے نہیں۔۔۔ بلکہ وہ تو ایک زندہ حقیقت ہے۔۔۔ وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہے۔۔ شہ رگ سے بھی قریب۔۔ وہ ہمیں دیکھتا رہتا ہے کہ مشکل میں ہمارا رد عمل کیا ہوگا۔۔ اور جو اس سے مانگ کر شک میں نہیں پڑتے، اللہ بھی انھیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ ایسے طریقوں سے اس کی مدد کرتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے"*
وہ اب واپس جارہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں آج ہی مسلمان ہوا ہوں یا جیسے میں نے آج اپنے اللہ کو پالیا ہے۔۔۔

Sunday, April 7, 2019

شادی سے پہلے ناجائز تعلق اور اس کا انجام

اس شخص کو اپنی غلطیوں کا احساس پہلی رات ہی ہوجاۓ گا جب وہ کمرے میں جاۓ گا تو اسکی بیوی اس سے بلکل نہیں شرماۓ گی، اس شوہر کو بیوی کی گھبراہٹ کا قطعی احساس نہیں ہوگا، دونوں خوش ضرور ہیں لیکن وہ خوشی جس سے انسان پھولے نہین سماتا وہ اس خوشی سے محروم ہوچکے ہیں، یہی نہیں آنے والی زندگی میں مذید خزاں کے موسم آنے ہیں کہ شوہر محسوس کرے گا بیوی میری عزت نہیں کرتی میرا کہنا نہیں مانتی یہ صرف اپنی ہی چلاتی ہے دوسری طرف بیوی نے بھی برابر کا جواب رکھنا ہے کہ آپ شادی کے بعد بلکل بدل گۓ ہو مین جس شخص سے باتیں کیا کرتی تھی وہ کوئ اور تھا جس سے شادی ہوئ وہ کوئ اور ہے، کہاں گۓ آپ کے سارے وعدے ساری قسمیں، وہاں شوہر مردانگی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں آگئ ہیں تمام معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے اور آیئں بایئن شایئں روزانہ نہین تو ہفتے مین دو سے تین بار کی کہانی ضرور ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو منگنی کے بعد مسلسل اپنی منگیتر کے ساتھ رابطے مین رہتے تھے جنہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو سن کر عمل کرنے سے انکار کیا اور نا انہوں نے دن دیکھا نا رات دیکھی کہ مسلسل منگیتر سے رابطے قائم ہیں، تحفے تحایف کی لین اعلی سطح پر ہے کہ منگیتر کو مہنگا موبائل گفٹ کیا جا رہا ہے، لڑکی نے لڑکے کو کڑھائ والا سوٹ ہدیہ کیا ہے کہ یہ سوٹ تم پر زیادہ اچھا لگے گا بعض لوگ تو ملاقات کرنے جیسی سنگین غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور کچھ لوگ تو حد سے تجاوز کرجاتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ہی منگیتر کو ناپاک کردیتے ہیں۔ یقین کریں انکی ازدواجی زندگی مین کوئ برکت نہین ہونے والی کیوں کہ انہوں نے شادی سے پہلے ہی منگیتر سے رابطے قائم کرکے شرم و حیا کو ایک طرف پھینک دیا، سب جانتے ہوۓ نکاح کی برکتوں سے منہ پھیر لیا، شادی سے پہلے منگیتر سے رابطے نے نا صرف ان کی ازدواجی زندگی کا سکون چھینا بلکہ انہین گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ٹھہرا دیا کہ شہزادی ابھی شہزادے کے نکاح مین نہیں آئ اور یہاں دونوں کی گفتگو ہے جو ختم ہو کر نہیں دے رہی۔
لوگ کہتے ہیں آپ کی باتیں درست ہیں لیکن زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، میرے دوست زمانے کے ساتھ چلنے کا ہی تو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گھروں کے گھر اجڑ چکے ہیں، ہر دوسرے گھر میں میاں بیوے کے جھگڑے، ہر تیسرے گھر میں طلاق یافتہ بیٹھی ہے، لہذا اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے طریقوں میں ہی ہماری بھلائ ہے۔
شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنے کے بے حد نقصانات ہیں کہ یہی میاں بیوی ایک دوسرے کے دل مین اپنی عزت کھو دیتے ہیں، شادی سے پہلے ہی ایک دوسرے سے مکمل کھل جاتے ہین پھر بیوی کی نظر مین وہ شوہر نہین رہتا اور شوہر کی نظر مین وہ بیوی نہین رہتی۔ تمہین کیا لگتا ہے منگیتر سے رابطہ کرکے جو تم گناہ عظیم کر رہے ہو یہ جانتے ہوۓ کہ وہ غیر محرم ہے اللہ تمہیں چھوڑ دے گا ؟ نہین اس کا سیدھا اثر تمہاری ازدواجی زندگی پر ہوگا، اولاد پر اثر ہوگا مذید گناہوں کی سزا کے حقدار الگ ٹھہرو گے۔
منگنی ہوجانے کے بعد نکاح کے بعد ہی بیوی کو دیکھنا بیوی سے بات کرنا بیوی سے ملاقات کرنا ہی درحقیقت غیرت مندی کا مظاہرہ ہے، یہی لوگ کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے ہیں کہ کہ دونوں منگیتر ہمکلام نا ہوۓ جانتے ہوۓ کہ غیر محرم ہیں انہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو اولین ترجیح دی اب انکی زندگی خوب سے خوب تر ہونے کو ہے کہ انکی زندگی مین بے شمار برکتیں ہونگی، دونوں میاں بیوی اللہ کی رحمت کے ساۓ مین آگۓ ہیں، اب ان دونوں کے معاملات اللہ خود دیکھتا ہے۔ بیشک جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہے اللہ دنیا و آخرت مین کہین ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا!!




Wednesday, March 20, 2019

میرے دوست دنیا کی نعمتوں سے دھوکہ میں نہ پڑ

کہتے ہیں کہ ہارون رشید ؒکا ایک بیٹا تھا جس کی عمر تقریباً سولہ سال کی تھی۔
وہ بہت کثرت سے زاہدوں اور بزرگوں کی مجلس میں رہا کرتا تھا،
اور اکثر قبرستان چلا جاتا،
وہاں جا کر کہتا کہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ ہم سے پہلے دنیا میں تھے،
دنیا کے مالک تھے،
لیکن اس دنیا نے تمھیں نجات نہ دی،
حتیٰ کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔
کاش!
مجھے کسی طرح خبر ہوتی کہ تم پر کیا گذری ہے اور تم سے کیا کیا سوال و جواب ہوئے ہیں؟
اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتا ؎
تَرُوْعُنِيَ الْجَنَائِزُ کُلَّ یَوْ مٍ
وَیَحْزُنُنِيْ بُکَائُ النَّائِحَات
مجھے جنازے ہر دن ڈراتے ہیں
اور مرنے والوں پر رونے والیوں کی آوازیں مجھے غمگین رکھتی ہیں۔
ایک دن،،،،،،،،،،،،
وہ اپنے باپ ( بادشاہ) کی مجلس میں آیا۔
اس کے پاس وُزرا، اُمرا سب جمع تھے اور لڑکے کے بدن پر ایک کپڑا معمولی اور سر پر ایک لنگی بندھی ہوئی تھی۔
آراکینِ سلطنت آپس میں کہنے لگے کہ
اس پاگل لڑکے کی حرکتوں نے امیر المؤمنین کو بھی دوسرے بادشاہوں کی نگاہ میں ذلیل کر دیا۔
اگر امیر المؤمنین اس کو تنبیہ کریں تو شاید یہ اپنی اس حالت سے باز آجائے۔
امیر المؤمنین نے یہ بات سن کر اس سے کہا کہ
بیٹا! تو نے مجھے لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کر رکھا ہے۔
اس نے یہ با ت سن کر باپ کو تو کوئی جواب نہیں دیا،
لیکن '''''''''''''
ایک پرند وہاں بیٹھا تھا اس کو کہا کہ
اس ذات کا واسطہ جس نے مجھے پیدا کیا تو میرے ہاتھ پر آکر بیٹھ جا۔
وہ پرند وہاں سے اُڑ کر اس کے ہاتھ پر آکر بیٹھ گیا۔
پھر کہا کہ اب اپنی جگہ چلا جا۔
وہ ہاتھ پر سے اُڑ کر اپنی جگہ چلا گیا۔
اس کے بعد اس نے عرض کیا کہ
ابا جان!
اصل میں آپ دنیا سے جو محبت کر رہے ہیں اس نے مجھے رسوا کر رکھا ہے۔۔!!!!!!!!
اب میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ سے جدائی اختیار کر لوں۔
یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا
اور ایک قرآن شریف صرف اپنے ساتھ لیا۔
چلتے ہوئے ماں نے ایک بہت قیمتی انگوٹھی بھی اس کو دے دی (کہ اِحتیاج کے وقت اس کو فروخت کرکے کام میں لائے) وہ یہاں سے چل کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بصرہ پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
اور مزدوروں میں کام کرنے لگا۔
ہفتہ میں صرف ایک دن شنبہ کو مزدوری کرتا اور آٹھ دن تک وہ مزدوری کے پیسے خرچ کرتا اور آٹھویں دن پھر شنبہ کو مزدوری کر لیتا۔
اور ایک دِرَم اور ایک دانق (یعنی دِرَم کا چھٹا حصہ مزدوری لیتا) اس سے کم یا زیادہ نہ لیتا۔ ایک دانق روزانہ خرچ کرتا۔
ابو عامر بصری ؒکہتے ہیں کہ
میری ایک دیوار گر گئی تھی۔ اس کو بنوانے کے لیے میں کسی معمار کی تلاش میں نکلا۔ (کسی نے بتایا ہوگا کہ یہ شخص بھی تعمیر کا کام کرتا ہے)
میں نے دیکھا کہ نہایت خوبصورت لڑکا بیٹھا ہے، ایک زنبیل پاس رکھی ہے اور قرآن شریف دیکھ کر پڑھ رہا ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ
لڑکے مزدوری کرو گے؟
کہنے لگا:
کیوں نہیں! کریں گے، مزدوری کے لیے تو پیدا ہی ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں کہ کیا خدمت مجھ سے لینی ہے؟
میں نے کہا: گارے مٹی (تعمیر) کا کام لینا ہے۔
اس نے کہا کہ ایک دِرَم اور ایک دانق مزدوری ہوگی اور نماز کے اوقات میں کام نہیں کروں گا، مجھے نماز کے لیے جانا ہوگا۔
میں نے اس کی دونوں شرطیں منظور کر لیں اور اس کو لا کر کام پر لگا دیا۔
مغرب کے وقت جب میں نے دیکھا تو اس نے دس آدمیوں کی بقدر کام کیا۔
میں نے اس کو مزدوری میں دو دِرَم دیے۔
اس نے شرط سے زائد لینے سے انکار کر دیا،
اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔
دوسرے دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پھر اس کی تلاش میں نکلا۔ وہ مجھے کہیں نہ ملا۔ میں نے لوگوں سے تحقیق کیا کہ ایسی ایسی صورت کا ایک لڑکا مزدوری کیا کرتا ہے، کسی کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ملے گا؟
لوگوں نے بتایا کہ وہ صرف شنبہ ہی کے دن مزدوری کرتا ہے، اس سے پہلے تمھیں کہیں نہیں ملے گا۔
مجھے اس کے کام کو دیکھ کر ایسی رغبت ہوئی کہ میں نے آٹھ دن کو اپنی تعمیر بند کر دی اور شنبہ کے دن اس کی تلاش کو نکلا۔
وہ اسی طرح بیٹھا قرآن شریف پڑھتا ہوا ملا۔
میں نے سلام کیا اور مزدوری کرنے کو پوچھا۔
اس نے وہی پہلی دو شرطیں بیان کیں۔
میں نے منظور کر لیں۔
وہ میرے ساتھ آکر کام میں لگ گیا۔
مجھے اس پر حیرت ہو رہی تھی کہ پچھلے شنبہ کو اس اکیلے نے دس آدمیوں کا کام کس طرح کر لیا۔
اس لیے اس مرتبہ میں نے ایسی طرح چھپ کر کہ وہ مجھے نہ دیکھے، اس کے کام کرنے کا طریقہ دیکھا،
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تو یہ منظر دیکھا کہ۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں گارا لے کر دیوار پر ڈالتا ہے
اور پتھر اپنے آپ ہی ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے چلے جاتے ہیں۔
مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی اللہ کا ولی ہے اور اللہ کے اَولیا کے کاموں کی غیب سے مدد ہوتی ہی ہے۔
جب شام ہوئی تو میں نے اس کو تین دِرَم دینا چاہے۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا
کہ میں اتنے دِرَم کیا کروں گا؟ اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔
میں نے ایک ہفتہ پھر انتظار کیا
اور تیسرے شنبہ کو پھر میں اس کی تلاش میں نکلا، مگر وہ مجھے نہ ملا۔
میں نے لوگوں سے تحقیق کیا۔ ا
یک شخص نے بتایا کہ
وہ تین دن سے بیمار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلاں ویرانہ جنگل میں پڑا ہے۔
میں نے ایک شخص کو اجرت دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ مجھے اس جنگل میں پہنچا دے۔ وہ مجھے ساتھ لے کر اس جنگل ویران میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے ہوش پڑا ہے۔
آدھی اینٹ کاٹکڑا سر کے نیچے رکھا ہوا ہے۔
میں نے اس کو سلام کیا، اس نے جواب نہ دیا۔
میں نے دوسری مرتبہ سلام کیا
تو اس نے (آنکھ کھولی اور) مجھے پہچان لیا۔
میں نے جلدی سے اس کا سر اینٹ پر سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا۔
اس نے سرہٹالیا اور چند شعر پڑھے
جن میں سے دو یہ ہیں ؎
یَا صَاحِبِيْ لَا تَغْتَرِرْ بِتَنَعُّمٖ فَالْعُمْرُ یَنْفَدُ وَالنَّعِیْمُ یَزُوْلُ
وَإِذَا حَمَلْتَ إِلَی الْقُبُوْرِ جَنَازَۃً فَاعْلَمْ بِأَنَّکَ بَعْدَھَا مَحْمُول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے دوست
دنیا کی نعمتوں سے دھوکہ میں نہ پڑ۔
عمر ختم ہوتی جا رہی ہے اور یہ نعمتیں سب ختم ہو جائیں گی۔
جب تو کو ئی جنازہ لے کر قبرستان میں جائے تو یہ سوچتا رہا کر کہ تیرا بھی ایک دن اسی طرح جنازہ اٹھایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ
ابو عامر!
جب میری روح نکل جائے تو مجھے نہلا کر میرے اسی کپڑے میں مجھے کفن دے دینا۔
میں نے کہا:
میرے محبوب! اس میں کیا حرج ہے کہ
میں تیرے کفن کے لیے نئے کپڑے لے آئوں؟
اس نے جواب دیا کہ
نئے کپڑوں کے زندہ لوگ زیادہ مستحق ہیں۔
(یہ جواب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب ہے۔ انھوںنے بھی اپنے وصال کے وقت یہی فرمائش کی تھی کہ
میری انہی چادروں میں کفن دے دینا۔ اور جب ان سے نئے کپڑے کی اجازت چاہی گئی تو انھوںنے یہی جواب دیا تھا۔)
لڑکے نے کہا کہ
کفن تو (پرانا ہو یا نیا بہر حال) بوسیدہ ہو جائے گا۔
آدمی کے ساتھ تو صرف اس کا عمل ہی رہتا ہے۔
اور یہ میری لنگی اور لوٹا قبر کھودنے والے کو مزدوری میں دے دینا،
اور یہ انگوٹھی اور قرآن شریف ہارون رشید تک پہنچا دینا۔ اور اس کا خیال رکھنا کہ خود انہی کے ہاتھ میں دینا
اور یہ کہہ کر دینا کہ ایک پردیسی لڑکے کی یہ میرے پاس امانت ہے اور وہ آپ سے یہ کہہ گیا ہے کہ
ایسا نہ ہو کہ اسی غفلت اور دھوکہ کی حالت میں آپ کی موت آجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر اس کی روح نکل گئی ۔۔۔
اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ لڑکا شہزادہ تھا۔
اس کے انتقال کے بعد اس کی وصیت کے موافق میں نے اس کو دفن کر دیا،
اور دونوں چیزیں گورکن کو دے دیں،
اور قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر
۔۔۔۔۔۔۔ بغداد پہنچا، ،،،،،،،،
اور قصرِ شاہی کے قریب پہنچا تو بادشاہ کی سواری نکل رہی تھی۔
میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہو گیا۔
اوّل ایک بہت بڑا لشکر نکلا جس میں تقریباً ایک ہزار گھوڑے سوار تھے۔
اس کے بعد اسی طرح یکے بعد دیگرے دس لشکر نکلے۔
ہر ایک میں تقریباً ایک ہزار سوار تھے۔
دسویں جتھے میں خود امیر المؤمنین بھی تھے۔ میں نے زور سے آواز دے کر کہا کہ
اے امیر المؤمنین!
آپ کو حضورِاقدسﷺ کی قرابت رشتہ داری کا واسطہ ،
ذرا سا توقف کر لیجیے۔
میری آواز پر انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا کہ
میرے پاس ایک پردیسی لڑکے کی یہ امانت ہے جس نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ یہ دونوں چیزیں آپ تک پہنچادوں۔
بادشاہ نے ان کو دیکھ کر (پہچان لیا)
تھوڑی دیر سر جھکایا۔
ان کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے اور ایک دربان سے کہا کہ
اس آدمی کو اپنے ساتھ رکھو، جب میں واپسی پر بلائوں تو میرے پاس پہنچا دینا۔
جب وہ باہر سے واپسی پر پہنچے تو محل کے پردے گروا کر دربان سے فرمایا:
اس شخص کو بلا کر لائو،
اگرچہ وہ میرا غم تازہ ہی کرے گا۔
دربان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ
امیر المؤمنین نے بلایا ہے اور اس کا خیال رکھنا کہ امیر پر صدمہ کا بہت اثر ہے۔ اگر تم دس باتیں کرنا چاہتے ہو تو پانچ ہی پر اِکتفا کرنا۔
یہ کہہ کر وہ مجھے امیر کے پاس لے گیا۔ اس وقت امیر بالکل تنہا بیٹھے تھے۔
مجھ سے فرمایا کہ
میرے قریب آجاو۔
میں قریب جا کر بیٹھ گیا۔
کہنے لگے کہ تم میرے اس بیٹے کو جانتے ہو؟
میں نے کہا: جی ہاں میں ان کو جانتا ہوں۔
کہنے لگے:
وہ کیا کام کرتا تھا؟
میں نے کہا:
گارے مٹی کی مزدوری کرتے تھے۔
کہنے لگے: تم نے بھی مزدوری پر کوئی کام اس سے کرایا ہے؟
میں نے کہا: کرایا ہے۔
کہنے لگے: تمھیں اس کا خیال نہ آیا کہ
اس کی حضورِ اقدس ﷺ سے قرابت تھی (کہ یہ حضرات حضورﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کی اولاد ہیں)؟
میں نے کہا:
امیر المؤمنین پہلے اللہ سے معذرت چاہتا ہوں،
اس کے بعد آپ سے عذر خواہ ہوں، مجھے اس وقت اس کا علم ہی نہ تھا کہ یہ کون ہیں؟
مجھے ان کے انتقال کے وقت ان کا حال معلوم ہوا۔ کہنے لگے کہ
تم نے اپنے ہاتھ سے اس کو غسل دیا؟
میں نے کہا کہ جی ہاں۔
کہنے لگے: اپنا ہاتھ لاو۔
میرا ہاتھ لے کر اپنے سینہ پر رکھ دیا اور
چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے:۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وہ مسافر جس پر میرا دل پگھل رہا ہے اور میری آنکھیں اس پر آنسو بہا رہی ہیں!
اے وہ شخص جس کا مکان (قبر) دور ہے، لیکن اس کا غم میرے قریب ہے!
بے شک موت ہر اچھے سے اچھے عیش کو مکدر کر دیتی ہے۔
وہ مسافر ایک چاند کا ٹکڑا تھا (یعنی اس کا چہرہ) جو خالص چاندی کی ٹہنی پر تھا( یعنی اس کے بدن پر)۔ پس چاند کا ٹکڑا بھی قبر میں پہنچ گیا اور چاندی کی ٹہنی بھی قبر میں پہنچ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ہارون رشید ؒنے بصرہ اس کی قبر پر جانے کا ارادہ کیا، ابو عامر ؒ ساتھ تھے۔ اس کی قبر پر پہنچ کر
ہارون رشید نے چند شعر پڑھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔جن کا ترجمہ یہ ہے:
اے وہ مسافر جو اپنے سفر سے کبھی بھی نہ لوٹے گا!
موت نے کم عمری کے ہی زمانہ میں اس کو جلدی سے اُچک لیا۔
اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! تو میرے لیے انس اور دل کا چین تھا، لا نبی راتوں میں بھی اور مختصر راتوں میں بھی۔
تُو نے موت کا وہ پیالہ پیا ہے جس کو عنقریب تیرا بوڑھا باپ بڑھاپے کی حالت میں پیے گا۔
بلکہ دنیا کا ہر آدمی اس کو پیے گا، چاہے وہ جنگل کا رہنے والا ہو یا شہر کا رہنے والا ہو۔
پس سب تعریفیں اسی وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کے لیے ہیں جس کی لکھی ہوئی تقدیر کے یہ کرشمے ہیں۔
ابو عامر ؒکہتے ہیں کہ
اس کے بعد جو رات آئی تو جب میں اپنے وظائف پورے کرکے لیٹا ہی تھا کہ
میں نے خواب میں۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نور کا قبہ دیکھا جس کے اوپر اَبر کی طرح نور ہی نور پھیل رہا ہے۔
اس نور کے اَبر میں سے اس لڑکے نے مجھے آواز دے کر کہا:
ابو عامر! !!!!!!!
تمھیں حق تعالیٰ شانہٗ جزائے خیر عطا فرمائے ( تم نے میری تجہیز و تکفین کی اور میری وصیت پوری کی)۔
میں نے اس سے پوچھا کہ میرے پیارے! تیرا کیا حال گزرا؟
کہنے لگا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایسے مولیٰ کی طرف پہنچا ہوں جو بہت کریم ہے اور مجھ سے بہت راضی ہے۔
مجھے اس مالک نے وہ چیزیں عطا کیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گزرا۔
(یہ ایک مشہور حدیثِ پاک کا مضمون ہے۔ حضورِاقدسﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
اللہ کا پاک ارشاد ہے کہ
میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزرا)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ
تورات میں لکھا ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو رات کو خواب گاہوں سے دور رہتے ہیں (یعنی تہجد گذاروں کے لیے) وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کان نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گذرا، نہ ان کو کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے، نہ کوئی نبی رسول جانتا ہے۔
اور یہ مضمون قرآنِ پاک میں بھی ہے:
{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} (السجدہ)
کسی شخص کو خبر نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ایسے لوگوں کے لیے خزانۂ غیب میں موجود ہے۔ (دُرِّمنثور)
اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکے نے کہا کہ
حق تعالیٰ شانہٗ نے قسم کھا کر فرمایا ھے کہ جو بھی دنیا سے اس طرح نکل آئے جیسا میں نکل آیا،
اس کے لیے یہی اِعزاز اور اِکرام ہیں جو میرے لیئے ہیں۔۔
🎀💕🎀💕
💕🎀💕





🎀💕